السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
جماع أبواب ما لا يحل أكله وما يجوز للمضطر من الميتة وغير ذلك -- باب: السمن أو الزيت تموت فيه فأرة باب: 0ان اشیاء کے ابواب کا مجموعہ جن کا کھانا حلال نہیں ہے، اور مجبور شخص کے لیے مردار وغیرہ میں سے کیا کھانا جائز ہے۔ -- باب: اس گھی یا تیل کا بیان جس میں چوہا مر جائے۔
حدیث نمبر: 19622
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا أُخِذَتْ وَمَا حَوْلَهَا فَأُلْقِيَتْ، وَإِنْ كَانَ ذَائِبًا أَوْ مَائِعًا لَمْ يُؤْكَلْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی میں چوہیا گر جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر گھی جامد ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد والا گھی گرا دو اور اگر جامد نہ ہو تو کھانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔“