حدیث نمبر: 19616
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا. فَقَالَ: " مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟ " قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ. فَقَالَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ ". وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ وَيَصُبَّ الْمَاءَ عَلَيْهِ. قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَيَكْفَأُ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ. قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْمَرٌ وَزَادَ فِيهِ هَذَا..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے غسل کرنے کے موقع پر ان کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: میں نے آج تک پوشیدہ رہنے والی لڑکی کا جسم بھی ایسا نہیں دیکھا۔ اتنی بات سے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے۔ انہیں اٹھا کر نبی ﷺ کے پاس لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ سہل اچانک گرا دیے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کس کو (اس کا) ملزم ٹھہراتے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ گزرے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے بھائی کو قتل کرو گے؟ جب کوئی اچھی چیز دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کرے؟“ پھر آپ ﷺ نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو وضو کا حکم دیا کہ وہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں اور پاؤں گھٹنوں تک اور چادر کا اندرونی حصہ دھو کر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ پر پانی ڈالا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19616
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»