حدیث نمبر: 19609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟ " قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ. قَالَ: " أَيَسُرُّكَ أَنْ تُوكَلَ إِلَيْهَا؟ انْبِذْهَا عَنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کے گلے میں تانبے کا ایک حلقہ تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: کمزوری کی وجہ سے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو پسند کرتا ہے کہ اس کے سپرد کر دیا جائے؟ اسے اتار کر پھینک دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19609
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»