السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19600
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ الْقَاضِي، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ زَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَذَا قَالَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِي عَنْ مَعْمَرٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.حافظ ثناء اللہ
ابو خزامہ زید بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے (یہی) سوال کیا۔ راوی نے اسی طرح کہا ہے، لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت معمر اور عبدالرحمن بن اسحاق سے بھی زہری کے واسطے سے ابن ابی خزامہ عن ابیہ مروی ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔