السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19598
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا خُزَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا وَاتِّقَاءً نَتَّقِيهَا هَلْ يَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللهِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللهِ "..حافظ ثناء اللہ
ابو خزاعہ کے والد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! آپ کا دوا کروانے اور دم کے متعلق کیا خیال ہے یا جس کو ہم بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال سکتی ہیں؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔“