السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19595
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، وَكَانَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رُقْيَةٌ يَرْقُونَ بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَكَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ. قَالَ: " فَاعْرِضْهَا عَلَيَّ ". فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: " مَا أَرَى بَأْسًا، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابو سفیان، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دم سے منع فرمایا اور سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بچھو کے ڈس جانے کی وجہ سے دم کرتے تھے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے (اور عرض کی) کہ آپ ﷺ نے دم سے منع فرمایا ہے، حالانکہ ہم بچھو کے ڈسنے کا دم کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے پڑھو۔“ انہوں نے آپ ﷺ کو (وہ کلمات) سنائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، جو کوئی اپنے بھائی کو نفع دے سکے تو اسے (نفع) دے۔“