السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ: " مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً؟ أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ؟ ". قَالَتْ: لَا، وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ، أَفَأَرْقِيهِمْ؟ قَالَ: " وَبِمَاذَا؟ ". فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ كَلَامًا لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ: " نَعَمْ، ارْقِيهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مُدْرَجًا فِي الْأَوَّلِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میں اپنے بھتیجوں کے جسم کو کمزور دیکھتا ہوں، کیا انہیں کوئی پریشانی ہے؟“ وہ فرماتی ہیں: پریشانی کوئی نہیں، انہیں صرف جلد نظر لگ جاتی ہے، کیا میں دم کر دیا کروں؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس سے؟“ تو انہوں نے آپ ﷺ کو کوئی کلام سنایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے دم کر دیا کرو۔“