السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19585
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ، فَقَالَ: " لَوِ اسْتَرْقَوْا لَهَا فَإِنَّ بِهَا نَظْرَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر ایک بچی کے چہرے پر زردی دیکھی تو فرمایا: ”اس کو دم کر دو کیونکہ اس کو نظر لگی ہے۔“