حدیث نمبر: 19575
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ عَنْهُ مِنَ الْعُذْرَةِ قَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَشْفِيَةٍ، يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِمَا،.
حافظ ثناء اللہ

عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئی اور میں نے حلق کی تکلیف کی بنا پر اس کو زور دیا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم حلق کی بیماری «الْعُذْرَةِ» کی وجہ سے اپنے بچوں کے حلق کو کیوں دباتے ہو؟ تم «الْعُودِ الْهِنْدِيِّ» ”عودِ ہندی“ کے ساتھ دوائی کیا کرو کیونکہ اس میں سات قسم کی بیماریوں سے شفا ہے۔ حلق کی بیماری کی وجہ سے ناک کی جانب سے دوا دیں اور نمونیہ «ذَاتِ الْجَنْبِ» کے مریض کو منہ کی ایک طرف سے دوا دیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19575
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»