السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في إباحة التداوي باب: علاج معالجہ کروانے کے جواز کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَهُنَا وَهَهُنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً، غَيْرَ وَاحِدٍ الْهَرَمِ ". قَالَ: وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ لَا بَأْسَ بِهَا عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا، قَالَ: " عِبَادَ اللهِ وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ امْرأً ظُلْمًا، فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ إِلَى قَوْلِهِ: الْهَرَمِ.سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم یوں بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا تو ایک اعرابی بھی آگیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم دوائی سے علاج کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے، سوائے بڑھاپے کے۔“ راوی کہتے ہیں: اس نے بعض دوسری اشیاء کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے بندو! اللہ نے تنگی کو ختم کر ڈالا لیکن جو شخص دوسروں پر ظلم کرتا ہے یہ ہلاکت و پریشانی کا باعث ہے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو بہترین چیز کیا عطا کی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“