السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في إباحة قطع العروق والكي عند الحاجة باب: بوقتِ ضرورت رگیں کاٹنے (فصد کھلوانے) اور داغنے کے جواز کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19552
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى أَفَنَكْوِيهِ؟ قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ ". يَعْنِي بِالْحِجَارَةِ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " فَارْضِفُوهُ بِالرَّضْفِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گروہ نے نبی ﷺ سے آکر کہا: ہمارا ایک ساتھی بیمار ہے کیا ہم اس کو داغ دیں؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اگر چاہو لوہے یا پتھر سے داغ دو۔“ (ب) ابو اسحاق کی روایت میں ہے کہ ”پتھر سے داغ دو۔“