السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في استحباب ترك الاكتواء والاسترقاء باب: داغنے (اكتواء) اور دم کروانے (استرقاء) کو ترک کرنے کے مستحب ہونے کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ الْبَارِحَةَ كَانَ كَذَا وَكَذَا؟ فَقُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، فَظَنَنْتُهُ ظَنَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي فَقُلْتُ: إِنِّي لُدِغْتُ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ: أَلَا اسْتَرْقَيْتَ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ. فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ". قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَعْتَافُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ رَوْحٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حُصَيْنٍ.حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے فرمایا: ”(تم میں سے کس نے گزشتہ رات ستارہ ٹوٹتے دیکھا؟)“ میں نے کہا: ”میرا (یہ بتانا) اس لیے تھا تاکہ میرا یہ گمان نہ کیا جائے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) گزشتہ رات مجھے (کسی زہریلے جانور نے) ڈس لیا تھا۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے دم کیا؟“ میں نے کہا کہ شعبی، بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» ”دم صرف نظرِ بد اور زہریلے جانور کے ڈسنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ راوی نے پوچھا: وہ کون سے لوگ (ہیں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نہ دم کرواتے ہیں اور نہ ہی بدشگونی لیتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“