السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في استحباب ترك الاكتواء والاسترقاء باب: داغنے (اكتواء) اور دم کروانے (استرقاء) کو ترک کرنے کے مستحب ہونے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19543
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: أَتَانَا جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى بَيْتِنَا فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ كَانَ فِي أَدْوِيَتِكُمْ أَوْ مَا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَشَرَطَةُ حَجَّامٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَاءً، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں خیر ہے تو وہ تین اشیاء میں ہے: سینگی لگانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں، لیکن میں داغ دینے کو پسند نہیں کرتا۔“