السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في وقت الحجامة باب: پچھنے لگانے کے وقت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19539
ورَوَاهُ أَبُو جُرَيٍّ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ بِإِسْنَادَيْنِ لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يَنْبَغِي ذِكْرُهُ، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ أَبُو سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي وَهِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهَا كَانَ يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبْدَانَ بِمَعْنَاهُ. النَّهْيُ الَّذِي فِيهِ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
کبشہ بنت ابی بکرہ رحمہا اللہ کے والد (سیدنا ابی بکرہ رضی اللہ عنہ) اپنے گھر والوں کو منگل کے دن سینگی لگوانے سے منع فرماتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا یہ گمان تھا کہ منگل کا دن خون کا دن ہے اور اس دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا۔
اس میں جو ممانعت ہے وہ موقوف ہے، مرفوع نہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔ ابو جری نصر بن طریف نے اسے اپنی دو سندوں سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن وہ متروک ہے، اس کا ذکر مناسب نہیں۔