السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في فضل الحجامة على طريق الاختصار باب: پچھنے لگانے (حجامہ) کی فضیلت کے متعلق مختصراً کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19526
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي حُرٍّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَدَعَا الْحَجَّامَ فَعَلَّقَ عَلَيْهِ مَحَاجِمَ قُرُونٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ؟ قَالَ: " هَذَا الْحَجْمُ ". قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ: " مِنْ خَيْرِ دَوَاءٍ يَتَدَاوَى بِهِ النَّاسُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے حجام کو بلایا جس کے پاس سینگ کی بنی ہوئی سینگی تھی، اس نے آپ کا تھوڑا سا گوشت کاٹا اور ایک اعرابی نے آ کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے آپ کا چمڑا کاٹا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سینگی ہے۔“ اس نے پوچھا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک قسم کی دوا ہے جس کا لوگ استعمال کرتے ہیں۔“