السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إفراد الإقامة باب: اقامت کے کلمات ایک ایک بار (طاق) کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1952
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا وَهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يُوقِدُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے ذکر کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے وقت کو معلوم کریں اور اس کو پہچانیں۔ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں، بالآخر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ ”اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔“