السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرخصة في كسب الحجام باب: پچھنے لگانے والے کی کمائی استعمال کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19514
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ، وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ﷺ کو سینگی لگائی، آپ ﷺ نے اسے مزدوری ادا کی۔ اگر سینگی کی مزدوری حرام ہوتی تو آپ ﷺ اسے ادا نہ کرتے اور آپ ﷺ نے اس کے مالکوں کو خراج کم کرنے کا حکم دیا۔