السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19495
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، فَذَكَرَهُ. ⦗٥٦٤⦘ وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ عَنْهُ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ: ذَكَاةُ أُمِّهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چوپائے تمہارے لیے حلال کیے گئے۔ جنین کی ماں کو ذبح کرنا بچے کا ذبح شمار کیا جائے گا۔
(ب) سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اے حنظلہ! تمہارے لیے چوپائے حلال کیے گئے ہیں۔ جب بچے پر بال آ جائیں، تخلیق مکمل ہو جائے تو ماں کو ذبح کرنا بچے کو ذبح کرنے کے حکم میں ہے۔