السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل الجلالة وألبانها وهي الإبل التي يكون أكثر علفها العذرة، وأرواح العذرة توجد في عرقها وجررها باب: جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کے متعلق کیا مروی ہے، اور یہ وہ اونٹ ہوتا ہے جس کا زیادہ تر چارہ گندگی ہو، اور اس کے پسینے اور جگالی سے گندگی کی بدبو آتی ہو۔
حدیث نمبر: 19477
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَالْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آپ ﷺ نے جلالہ کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا ہے“۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے بھی اونٹ اور بکری میں سے جو جلالہ ہو اس کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔