السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل الجلالة وألبانها وهي الإبل التي يكون أكثر علفها العذرة، وأرواح العذرة توجد في عرقها وجررها باب: جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کے متعلق کیا مروی ہے، اور یہ وہ اونٹ ہوتا ہے جس کا زیادہ تر چارہ گندگی ہو، اور اس کے پسینے اور جگالی سے گندگی کی بدبو آتی ہو۔
حدیث نمبر: 19475
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى عَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”باندھ کر مارے گئے جانور کا گوشت اور گندگی کھانے والے جانور کا دودھ پینے اور مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع کیا ہے۔“