السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل الجلالة وألبانها وهي الإبل التي يكون أكثر علفها العذرة، وأرواح العذرة توجد في عرقها وجررها باب: جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کے متعلق کیا مروی ہے، اور یہ وہ اونٹ ہوتا ہے جس کا زیادہ تر چارہ گندگی ہو، اور اس کے پسینے اور جگالی سے گندگی کی بدبو آتی ہو۔
حدیث نمبر: 19472
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي مَعْنَى الْإِبِلِ الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ وَغَيْرُهُمَا مِمَّا يُؤْكَلُ..حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اونٹ ہی کے حکم میں گائے، بکری اور ان کے علاوہ وہ جانور بھی ہیں جو کھائے جاتے ہیں۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا. خَالَفَهُ شَرِيكٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”گندگی کھانے والے جانور کا گوشت اور دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔“