حدیث نمبر: 1943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ⦗٦٠٦⦘ وَالْمَنِيعِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ثنا الْفِرْيَابِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ ابْنُ عَمٍّ لِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيِّ وَفِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي جُحَيْفَةَ فِي أَذَانِ بِلَالٍ بِالْأَبْطَحِ وَحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ فِي أَذَانِ بِلَالٍ مُنْصَرَفَهُمْ مِنْ خَيْبَرَ وَفِيمَا نَذْكُرُهُ فِي مَسْأَلَةِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَةَ مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) جناب سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے اسی سند کے ساتھ اور اسی کے ہم معنی بیان کیا، مگر انہوں نے یہ قول «ابْنُ عَمٍّ لِي» ”میرا ایک چچا زاد“ ذکر نہیں کیا۔ (ب) گزشتہ ابواب میں سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ابطح میں اذان دینے کا ذکر ہے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے خیبر سے واپسی پر اذان کہی۔ آئندہ ان شاء اللہ ہم ظہر کو ٹھنڈے کرنے کے مسئلہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ ثابت کریں گے کہ سفر میں اذان اور اقامت کہنا سنت ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1943
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»