السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضبع والثعلب باب: بجو اور لومڑی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَاهُمْ كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمْ فِي بَعْضِ الْمَغَازِي، بَلَغَنِي أَنَّكُمْ فِي أَرْضٍ تَأْكُلُونَ طَعَامًا يُقَالُ لَهُ الْجُبْنُ، فَانْظُرُوا مَا حَلَالُهُ مِنْ حَرَامِهِ، وَتَلْبَسُونَ الْفِرَاءَ فَانْظُرُوا ذَكِيَّهُ مِنْ مَيِّتِهِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ان کے پاس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا، وہ کسی غزوہ میں مصروف تھے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم پنیر کھاتے ہو، دیکھ لینا کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام اور تم گورخر کا شکار کرتے ہو تو اس کے ذبیحہ کو دیکھ لیا کرو، مردار سے۔