السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدعاء بين الأذان والإقامة باب: اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1939
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: " سَاعَتَانِ تُفْتَحُ فِيهِمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَقَلَّ دَاعٍ تُرَدُّ عَلَيْهِ دَعْوَتُهُ: حَضْرَةُ النِّدَاءِ بِالصَّلَاةِ وَالصَّفُّ فِي سَبِيلِ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”دو گھڑیوں میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور بہت ہی کم دعا کرنے والے کی دعا رد کی جاتی ہے، اذان کے وقت اور اللہ کے راستے میں صف بندی کرتے ہوئے۔“