السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضبع والثعلب باب: بجو اور لومڑی کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ الدَّثَنِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ؟ فَقَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَأَنَا آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ؟ قَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَإِنِّي آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ؟ قَالَ: " لَا آكُلُهَا وَلَا أُحَرِّمُهَا ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تُحَرِّمْهُ فَإِنَّى آكُلُهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟ قَالَ: " أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟ " فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟ قَالَ أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ "؟. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ حَبَّانَ بْنِ جَزْءٍ عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يُوَافِقُ السُّلَمِيَّ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ وَيُخَالِفُهُ فِي بَعْضِهِ، وَفِي كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ ضَعْفٌ. وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ جَعَلُوا فِي الضَّبُعِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ.سیدنا عبدالرحمن بن معقل سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بجو کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کھاتا نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب آپ ﷺ اس کو منع نہیں کرتے تو میں کھالوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: گوہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کھاتا بھی نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ ﷺ منع نہیں کرتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! خرگوش کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: ”میں اس کو کھاتا نہیں اور حرام بھی نہیں کہتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ ﷺ اس کو حرام نہیں کہتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! بھیڑیے کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی کھاتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! لومڑی کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا لومڑی کو بھی کوئی کھاتا ہے؟“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب محرم آدمی بجو کا شکار کرے تو اس کے عوض ایک مینڈھا ادا کرے گا۔