السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
جماع أبواب ما يحل ويحرم من الحيوانات -- باب: ما يحرم من جهة ما لا تأكل العرب باب: 0حلال اور حرام جانوروں کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: ان جانوروں کی حرمت کا بیان جنہیں اہلِ عرب ناپسندیدگی کی بنا پر نہیں کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 19370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْغُرَابِ مِنَ الطَّيِّبَاتِ هُوَ؟ قَالَ: كَيْفَ يَكُونُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَاسِقَ. لَمْ يُجَاوِزْ بِهِ عُرْوَةُ.حافظ ثناء اللہ
ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کوے کے حلال ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ کیسے حلال ہوگا جس کا نام رسول اللہ ﷺ نے «الْفَاسِقُ» ”فاسق“ رکھا ہے؟ عروہ رحمہ اللہ نے (اس کی) اجازت نہ دی۔