السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: أقروا الطير على مكاناتها باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”پرندوں کو ان کے ٹھکانوں پر رہنے دو“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 19336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعَهُ مِنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا " وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكَانَاتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ ”بچے کی جانب سے دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی جائے گی، مذکر ہو یا مؤنث کوئی حرج نہیں“ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”پرندوں کو ان کی جگہ پر رہنے دو۔“