السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء من الرخصة في الجمع بينهما باب: ان دونوں (نبی ﷺ کے نام اور کنیت) کو جمع کرنے کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19329
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". لَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ. قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچے کی ولادت ہو تو کیا میں بچے کا نام آپ ﷺ کے نام جیسا اور کنیت آپ ﷺ کی کنیت جیسی رکھ لوں؟ آپ ﷺ نے اثبات میں جواب دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات نہ کی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا تھا۔