السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يكره أن يسمى به باب: وہ نام جن کا رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 19311
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ عَنْ رَوْحٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یعلیٰ، برکۃ، افلح، یسار اور نافع نام رکھنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا لیکن آپ ﷺ خاموش ہو گئے، کچھ کہا نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے موت تک اس سے منع نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح کے نام رکھنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، پھر چھوڑ دیا۔