حدیث نمبر: 19300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَشْعَثَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ حِينَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشٍ عَظِيمٍ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: لَا تَعُقِّي عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ ". وَوَلَدَتِ الْحُسَيْنَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ عَقِيلٍ وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَوَلَّى الْعَقِيقَةَ عَنْهُمَا بِنَفْسِهِ كَمَا رُوِّينَاهُ، فَأَمَرَهَا بِغَيْرِهَا وَهُوَ التَّصَدُّقُ بِوَزْنِ شَعْرِهِمَا مِنَ الْوَرِقِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی پیدائش ہوئی تو والدہ نے ان کی جانب سے ایک بڑے مینڈھے کا عقیقہ کرنا چاہا، تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو عقیقہ نہ کر بلکہ ان کے سر کے بال اتار کر بالوں کے وزن کے برابر اللہ کے راستے میں یا مسافروں پر چاندی صدقہ کرو۔“ جب آئندہ سال حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح کیا۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو گویا کہ نبی ﷺ ان کا عقیقہ اپنی جانب سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے اس کو بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا کہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19300
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»