السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التسمية على الوضوء باب: وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 193
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وَهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَهَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثِفَالٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ ".حافظ ثناء اللہ
رباح بن عبد الرحمن بن ابی سفیان بن حویطب کہتے ہیں کہ مجھے میری دادی نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے وضو نہیں کیا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جس نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ نہیں پڑھی اور جو مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ اللہ پر بھی ایمان نہیں لایا اور جو انصار سے محبت نہیں کرتا وہ بھی مجھ پر ایمان نہیں لایا۔“