السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19282
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ سَالِمُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْيَهُودَ تَعُقُّ عَنِ الْغُلَامِ وَلَا تَعُقُّ عَنِ الْجَارِيَةِ، فَعُقُّوا عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”یہود بچے کی جانب سے عقیقہ کرتے ہیں جبکہ بچی کا عقیقہ نہیں کرتے۔ تم بچے کی جانب سے دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ کرو۔“