السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 19280
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: نُفِسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عُقِّي عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ: عَنْهُ جَزُورًا، فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ وَلَكِنْ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے گھر بچہ پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: ”اے مومنوں کی ماں! اس بچے کی جانب سے عقیقہ کریں یا بچے کی جانب سے اونٹ ذبح کر دیں۔“ انہوں نے فرمایا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ! لیکن رسول اللہ ﷺ نے تو ”ایک جیسی بکریاں“ ذبح کرنے کا فرمایا تھا۔“