السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يعق عن الغلام، وما يعق عن الجارية باب: لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کیا عقیقہ کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ. قَالَ الْفَقِيهُ الْعَالِمُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ الْمُزَنِيُّ فِي الْمُخْتَصَرِ عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، وَالْمُزَنِيُّ وَاهِمٌ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَنَّ سَائِرَ الرُّوَاةِ رَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِبَاعٍ، وَالْآخَرُ أَنَّهُمْ قَالُوا فِيهِ: سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ عَنِ الْمُزَنِيِّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ عَلَى الصَّوَابِ، كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنْ سُفْيَانَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. ⦗٥٠٧⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ كُرْزٍ.سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی جانب سے ایک بکری۔“
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی (صحیح) حدیث ہے اور سفیان کی حدیث وہم ہے۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزنی نے اسے مختصر میں امام شافعی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، انہوں نے سباع بن وہب سے، انہوں نے ام کرز سے روایت کیا ہے، اور مزنی کو اس میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک یہ کہ باقی تمام راویوں نے اسے ابن عیینہ سے، عبیداللہ بن ابی یزید سے، ان کے والد سے، سباع سے روایت کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اس میں سباع بن ثابت کہا ہے۔ طحاوی نے اسے مزنی سے کتاب السنن میں ان دو جگہوں میں سے ایک جگہ درست روایت کیا ہے، جیسا کہ باقی سب لوگوں نے سفیان سے روایت کیا ہے، وباللہ التوفیق۔