حدیث نمبر: 19266
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ: مَا مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَةٍ؟ قَالَ: يُحْرَمُ شَفَاعَةَ وَلَدِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَحَلَقَ شُعُورَهُمَا، وَتَصَدَّقَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِزِنَتِهِ فِضَّةً.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء خراسانی رحمہ اللہ سے پوچھا: ”بچہ عقیقہ کے عوض گروی رکھے جانے کا کیا معنیٰ ہے؟“ فرمایا: ”والدین بچے کی شفاعت سے محروم رکھے جاتے ہیں۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی جانب سے عقیقہ کیا اور ان کے بال مونڈوائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19266
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»