السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المرأة لا تؤذن للرجال باب: عورت مردوں کے لیے اذان نہیں دے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1924
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ بأَصْبَهَانَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا: ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں اور بعض نے کہا: بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ مقرر کر لیتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کسی آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کا اعلان کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہوں اور نماز کا اعلان کریں۔“