❮
❯
حدیث نمبر: 19190
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حَمَلَ الْكَبْشَ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذَبَحَ الْكَبْشَ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى إِذَا لَمْ يَحُجَّ. وَقَدْ فَعَلَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ مدینہ میں قربانی کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سینگوں والا، غیر خصی مینڈھا خریدنے کا حکم دیا، پھر یہ کہ میں اسے قربانی کے دن لوگوں کی عید گاہ میں ذبح کروں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، پھر مینڈھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا، جب مینڈھا ذبح ہوا تو انہوں نے اپنا سر منڈوایا، وہ بیمار تھے اور لوگوں کے ساتھ عید میں حاضر نہ ہو سکے تھے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جو حج نہ کرے تو قربانی کرنے والے پر سر منڈوانا واجب نہیں ہے، حالانکہ خود سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام کیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»