السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يوجب شاة أضحية لم يكن له أن يبدلها بخير ولا شر منها باب: جو شخص کسی بکری کو قربانی کے لیے نامزد کر دے تو اس کے لیے اسے کسی بہتر یا کمتر جانور سے بدلنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 19190
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حَمَلَ الْكَبْشَ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذَبَحَ الْكَبْشَ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى إِذَا لَمْ يَحُجَّ. وَقَدْ فَعَلَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ قربانی کے لیے خریدا، جس کی قیمت تین سو دینار تھی۔ انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کی قربانی خریدنا چاہی تو نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ”اسی اونٹ کو نحر کرنے“ کا حکم دیا اور اس کو فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔