السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الذبيحة باب: ذبح کرتے وقت رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھنے کا بیان۔
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ " فَقُلْتُ لَهُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ. فَقَالَ: " إِنِّي لَمَّا دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ أَبِي سَنْدَرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خُطِئَ بِهِ طَرِيقُ الْجَنَّةِ ".سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ مسجد سے نکل رہے تھے، میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے چل نکلا، آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا، آپ ﷺ نے کھجور کے باغ میں داخل ہونے کے بعد لمبا سجدہ کیا، میں نے تو خیال کیا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو فوت کر لیا ہے، میں نے آگے بڑھ کر سر جھکا کر نبی ﷺ کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور پوچھا: ”اے عبدالرحمن! کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کے لمبے سجدے کی وجہ سے میں ڈر گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فوت کر لیا ہے تو میں دیکھنے کے لیے آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں باغ میں داخل ہوا تو جبرائیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں آپ ﷺ کو خوشخبری دینے آیا ہوں، جو آپ ﷺ پر سلام پڑھے تو میں اس پر سلامتی کروں گا اور جو آپ ﷺ پر درود پڑھے میں اس پر رحمت نازل کروں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو درود پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔“