السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: السنة في أن يستقبل بالذبيحة القبلة باب: ذبح کے وقت جانور کو قبلہ رخ کرنے کی سنت کا بیان۔
قَالَهُ الزُّهْرِيُّ وَقَالَ: إِنْ جَهِلَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْكُلَ إِذَا ذَكَرَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: " {وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا} ". فَذَكَرَهُ، وَذَلِكَ يُرَدُّ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: وَجَّهَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ حِينَ ذَبَحَ.یہ بات امام زہری رحمہ اللہ نے کہی ہے، اور انہوں نے فرمایا: ”اگر (اسے قبلہ رخ کرنا) معلوم نہ ہو تو اس (ذبیحہ) کو کھانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس نے اس پر اللہ کا نام لیا ہو۔“
اور ہمیں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے عید کے دن دو سینگوں والے، سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے ذبح کیے، جب آپ ﷺ نے ان کا رخ (قبلہ کی طرف) کیا تو فرمایا: ﴿وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا﴾ ’میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔‘ [سورة الأنعام: 79]“ پھر انہوں نے (پوری) حدیث ذکر کی، اور یہ (روایت اپنے مقام پر) آئے گی۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ”جب آپ ﷺ نے ذبح کیا تو ان دونوں کا رخ قبلہ کی طرف کیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ إِذَا ذَبَحَ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: كَانَ يَسْتَقْبِلُ بِذَبِيحَتِهِ الْقِبْلَةَ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ عَنْ غَالِبٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا. وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر لینا مستحب ہے۔