السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في ذبيحة المجوس باب: مجوسیوں کے ذبیحے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19171
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْمَشَّاطُ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَجُوسِ هَجَرَ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، فَمَنْ أَسْلَمَ قَبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ أَبَى ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةُ عَلَى أَنْ لَا تُؤْكَلَ لَهُمْ ذَبِيحَةٌ وَلَا تُنْكَحُ لَهُمُ امْرَأَةٌ. هَذَا ⦗٤٧٩⦘ مُرْسَلٌ وَإِجْمَاعُ أَكْثَرِ الْأُمَّةِ عَلَيْهِ يُؤَكِّدُهُ.حافظ ثناء اللہ
حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوس کو اسلام قبول کرنے کے لیے خط لکھا: ”جو اسلام لائے اس سے اسلام قبول کر لیا جائے اور جو اسلام قبول کرنے سے انکار کر دے ان پر جزیہ لاگو کر دیں اور ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کیا جائے۔“