السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يستحب للمرء من أن يتولى ذبح نسكه أو يشهده باب: آدمی کے لیے اپنی قربانی خود ذبح کرنے یا اس کے پاس حاضر رہنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ، وَقُولِي: {إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣]. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً، فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ، أَمْ لِلِمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ". وَرَوَاهُ أَيْضًا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، ⦗٤٧٧⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَمَرَ بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت پاس کھڑی ہونا؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تیرے کیے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور یہ کہہ: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔““ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی جانب سے ہے اور آپ کے گھر والوں کی طرف سے خاص ہے یا عام مسلمانوں کی طرف سے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کی جانب سے بھی ہے۔“
(ب) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے قربانی ذبح کرنے کا حکم دیتے۔