السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يستحب للمرء من أن يتولى ذبح نسكه أو يشهده باب: آدمی کے لیے اپنی قربانی خود ذبح کرنے یا اس کے پاس حاضر رہنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19160
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ آپ ﷺ نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا اور تکبیر پڑھ کر اپنے ہاتھ سے دونوں کو ذبح کیا۔