السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صحة الصلاة مع ترك الأذان والإقامة أو ترك أحدهما باب: اذان اور اقامت یا ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دینے کے باوجود نماز کے صحیح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1914
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا " قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ: لَمْ يُنَادِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَّا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز اکٹھی پڑھائی۔ ابن ابی ذئب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اعلان نہیں کیا مگر اقامت کے ساتھ اور ان کے درمیان نفلی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی ان کے بعد۔