السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذبح في الغنم والبقر والفرس والطائر، والنحر في الإبل قد مضت أحاديث في ذبح الغنم باب: بکری، گائے، گھوڑے اور پرندے کو ذبح کرنے، اور اونٹ کو نحر کرنے کا بیان (بکری ذبح کرنے کی احادیث گزر چکی ہیں)۔
حدیث نمبر: 19131
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَتَمُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْهُ ". قِيلَ: وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: " يَذْبَحُهُ فَيَأْكُلُهُ وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهُ فَيَرْمِي بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے چڑیا کو بغیر حق کے قتل کیا، قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا۔“ پوچھا گیا: اس کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے کھاؤ، صرف پھینک دینے کے لیے ذبح نہ کرو۔“