حدیث نمبر: 19109
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ ". يَعْنِي فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ: " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا "، أَوْ قَالَ: " اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ "..
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”اس دن میں سب سے پہلا کام نماز پڑھنا اور اس کے بعد جا کر قربانی کرنا ہے۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہمارے طریقے کو پا لیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کر دی تو یہ اس کے گھر والوں کے لیے گوشت تو ہے لیکن قربانی نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی۔ لیکن اب میرے پاس دو دانت والے جانور سے بہتر جذعہ موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو قربانی کر دو، لیکن تمہارے بعد یہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19109
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»