السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما ورد النهي عن التضحية به باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 19107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ ابْنُ شَوْذَبٍ، ثنا شُعَيْبٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: مِنْ سَبْعَةٍ. قَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا تَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغْتَ الْمَنْسَكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ. فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ إِنْ صَحَّ التَّنْزِيهُ فِي الْقَرْنِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ، يَعْنِي لَيْسَ فِي نَقْصِهِ أَوْ فَقْدِهِ نَقْصٌ فِي اللَّحْمِ.حافظ ثناء اللہ
حجیہ بن عدی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ سے گائے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ سات آدمیوں کی جانب سے ہوتی ہے“ اور جب ان سے ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس شخص نے لنگڑے پن کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے: جب قربانی قربان گاہ پہنچ جائے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ”کان اور آنکھ غور سے دیکھنے“ کا حکم دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سینگ کا ٹوٹ جانا یا نہ ہونا قربانی کے جانور کو نقصان نہیں دیتا۔