السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما ورد النهي عن التضحية به باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى، هُوَ ابْنُ يُونُسَ الْمَعْنِيُّ، عَنْ ثَوْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ ذُو مِصْرَ قَالَ: أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَفَلَا جِئْتَنِي بِهَا؟ قُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ، فَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ صِمَاخُهَا، وَالْمُسْتَأْصَلَةُ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ، وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تُبْخَقُ عَيْنُهَا، وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا، وَالْكَسْرَاءُ الْكَسِيرُ.یزید ذو مصر کہتے ہیں کہ میں سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوالولید! میں قربانی کی تلاش میں نکلا تو میں نے کوئی ایسی قربانی نہ پائی جو مجھے پسند ہو، البتہ ایک دانت ٹوٹی ہوئی موجود تھی جسے میں نے ناپسند کیا۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ اس کو لے کر نہیں آئے؟ میں نے پوچھا: سبحان اللہ! (کیا وہ) آپ کے لیے (جائز ہے) جبکہ میرے لیے جائز نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، تجھے شک ہے جبکہ مجھے شک نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایسے جانور جس کا کان کاٹنے کے بعد اس کا سوراخ واضح ہو جائے، اور سینگ جڑ سے اکھاڑ دیا جائے، اور آنکھ پھوڑ دی جائے، اور کمزوری کی وجہ سے وہ ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکے اور ایسا بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو“ سے منع فرمایا ہے۔