السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإكتفاء بأذان الجماعة وإقامتهم باب: جماعت کی اذان اور ان کی اقامت پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ فَقَالَ: " أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ " قُلْنَا: لَا فَقَالَ: " قُومُوا فَصَلُّوا " فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ اقْتَضَا صَلَاتَهُ بِهِمَا وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.حافظ ثناء اللہ
اسود اور علقمہ کہتے ہیں: ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر میں آئے، انہوں نے کہا: کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کھڑے ہو جاؤ، نماز پڑھو۔ ہمیں اذان اور اقامت کا حکم نہیں دیا، پھر اپنی نماز کو پورا کیا۔