السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التسمية على الوضوء باب: وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 191
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَظَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَلَمْ يَجِدُوهُ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَا هُنَا ". فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ: " تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللهِ ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ. فَقَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: تَرَاهُمْ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: كَانُوا نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلًا. هَذَا أَصَحُّ مَا فِي التَّسْمِيَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پانی تلاش کیا تو انہیں پانی نہ ملا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں آؤ!“ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے پانی والے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، پھر فرمایا: ”«بِسْمِ اللّٰهِ» (بسم اللہ) پڑھ کر وضو کرو“۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا ہے، لوگ وضو کرتے رہے یہاں تک کہ آخری شخص نے وضو کر لیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم اس وقت کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تقریباً ستر تھے۔ یہ حدیث بسم اللہ کے پڑھنے کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔