السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: لا يجزي الجذع إلا من الضأن وحدها، ويجزي الثني من المعز والإبل والبقر باب: جذع (چھ ماہ کا بچہ) صرف بھیڑ کی صورت میں کفایت کرے گا، جبکہ بکری، اونٹ اور گائے کی صورت میں ثنی (دو دانتا) کفایت کرے گا۔
حدیث نمبر: 19060
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدَ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِن جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ. فَقَالَ: " اذْبَحْهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
خالد نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس گھریلو بکری کا «جَذَعَہ» بچہ موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذبح کرو لیکن کسی دوسرے کے لیے درست نہیں ہے۔“